جمعہ، 8 نومبر، 2013

نیٹو سپلائ بند کرنا وقت کی ضرورت :از: عبدالباسط احسان


ساری دنیا اس بات سے باخبر ہے کہ امریکہ افغانستان میں جنگ ہار چکا ہے، اب وہ افغانستان سے نکلنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ ایک طرف وہ طالبان سے مذاکرات کی بات کر رہا ہے تو دوسری طرف پاکستانی طالبان پر ڈرون حملے کرکے پاکستان کا امن تباہ کر رہا ہے۔ بات سمجھنے کی یہ ہے کہ امریکہ تو چلا جائے گا، مگر پاکستان کا امن تباہ کرکے جائے گا۔
پاکستان کے قبائلی ہمیشہ سے محب الوطن رہے ہیں، انھوں نے مشکل ترین حالات میں ساتھ دے کر ہمیشہ یہ بات سچ ثابت کرکے دکھائ کہ وہ وطن کی حفاظت کے لیے ملک کے ساتھ کھڑے ہونگے۔
امریکی جب سے اسامہ کے تعاقب میں افغانستان پر مسلط ہوئے ہیں، انھوں نے پاکستان کے قبائلیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ گرا دئیے ہیں، حتی کے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بھی ڈالر کے عوض خرید لیا ہے، حکومتیں بدلتی ہیں مگر نہ ڈرون حملے رکتے ہیں نہ خود کش حملے۔۔۔۔۔۔
جب تک مذاکرات نہ ہوں ، تب تک امن کی بات کیسے ہو ۔ مذاکرات کی بنیادی شرط یہ ہی ہوتی ہے کہ اسلحہ چھوڑ کر بات کی جائے اور اس بات کا یقین دلایا جائے کہ اس بات پر قائم رہا جائے گا۔
اگر طالبان کو کہا جائے کہ اسلحہ چھوڑ کر بات چیت کریں تو اس کے لیے آپ کو بھی یہ بات ماننا ہوگی کہ ہم بھی اسلحہ چھوڑ کر ، بات چیت کرتے ہیں۔ 
ڈرون حملے پاکستانی حکومت اور عسکری اداروں کی مرضی سے ہوتے ہیں۔۔ ڈرون حملہ کہاں ہوگا، کس وقت ہوگا۔ یہ سب کچھ پہلے ہی بتا دیا جاتا ہے۔ یہ بہت حساس نوعیت کا معاملہ ہے، پاکستان اس بات کی صلاحیت بھی رکھتا ہے کہ ڈرون گرا سکتا ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی حکومتیں امداد کے لیے پھر کشکول اٹھائے کدھر جائیں گی ۔۔۔
امریکہ افغانستان میں اور پاکستان میں اپنے اصل اہداف میں ناکام رہا ہے ، طالبان آج بھی افغانستان پر غالب ہیں ، جن کا لیڈر آج بھی ملا عمر ہے، امریکہ کو اس بات کا خدشہ ہے کہ امریکہ افغانستان سے جائے گا تو کہیں پاکستانی قبائلی ، ماضی کی طرح افغانی طالبان کیساتھ مل کر دوبارہ حکومت نہ بنا لیں ، اس لیے وہ پاکستانی قبائلیوں کو نہ صرف کمزور دیکھنا چاہتا ہے بلکہ وہ ان کو پاکستان کے خلاف  ہتھیار کے طور پراستعمال کرنا چاہتا ہے۔ جب ڈرون حملے ہوتے ہیں تو ظاہر ہے معصوم بچے اور عورتیں بھی شہید ہوتی ہیں، قبائلیوں کے دل میں نفرت پیدا ہوتی ہے کہ حکومت ہماری جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہے، پھر خود کش حملے شروع ہوجاتے ہیں۔ کم عمر بچوں کو  خود کش جیکٹس پہنا کر بھیج دیا جاتا ہے کہ جاکر بم بلاسٹ کرو ۔ 
یہ خود کش حملے بہت منظم انداز میں ہوتے ہیں، باقاعدہ ان معصوم بچوں کے جذبات سے کھیلا جاتا ہے۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ یہ ظلم کا ردعمل ہے۔ 
اس وقت جب پاکستان ' طالبان سے مذاکرات کرنے کے لیے سنجیدہ تھا' امریکہ نے ڈرون بھیج کر سارا امن دوبارہ برباد کردیا۔ امریکہ کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان میں امن ہو ' کیونکہ پاکستان میں امن امریکہ اور بھارت کے مفاد میں نہیں ہے۔
ہمارے حکمران ' امریکہ کی کٹھ پتلیاں نطر آتے ہیں' جو ابھی تک آزاد خارجہ پالیسی تشکیل نہ دے سکے۔۔۔
اب بھی وقت ہے اگر پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ کے جانے کے بعد پاکستان میں امن کی فضاء قائم ہو ' ناراض قبائلیوں کو منایا جاسکے تو اسے نیٹو سپلائ روک دینی چاہئیے تاکہ امریکہ پاکستان کے امن مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالے۔۔۔ 
ڈرون حملے آج ہی رک سکتے ہیں' کیونکہ یہ ہوتے ہی پاکستان کی مرضی سے ہیں۔ اگر ڈرون حملے پاکستان کی مرضی سے نہیں ہوتے تو پھر بھی یہ سنجیدہ نوعیت کا مسئلہ ہے کہیں کوئ ڈرون زیادہ دور تک نکل کر کہوٹہ تک نہ پہنچ جائے۔۔۔۔ امریکہ شکست کھا چکا ہے مگر پاکستان پھر بھی امریکہ کی ہاں میں ہاں ملا رہا ہے ، اس سے پاکستان کو مستقبل میں بہت نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ۔۔۔۔۔
https://www.facebook.com/urdufm